فلاحی ریاست کا خواب تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ ماہرینِ تعلیم و ذمہ داران کا اظہارِ خیال

ذمرہ ریاست
مارچ 21, 2021

پریس نوٹ (حید رآباد): اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) حلقہ تلنگانہ کی جانب سے ایک اہم گول میز میٹ بعنوان ”ایجوکیشن اِن انڈیا“ منعقد کیا گیا، یہ پروگرام بتاریخ 21 مارچ 2021، بروز اتوار کو صبح ۱۱ بجے میڈیا پلس آڈیٹوریم پر منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں شعبہ تعلیم سے وابستہ ماہرین نے شرکت کرتے ہوئے ہندوستان کے پسِ منظر میں تعلیمی نظام، نئی تعلیمی پالیسی اور ملک کی موجودہ تعلیمی صورتحال پر گفتگو کی۔ ایس آئی او ہمیشہ سے ملک بھر میں تعلیمی نظام کی بہتری اورہر فرد تک معیاری تعلیم کی آسان رسائی کے سلسلہ میں جدوجہد کرتی آرہی ہے، ایس آئی او چاہتی ہے کہ ملک ہندوستان ایک ویلفئر اسٹیٹ بنے جہاں ہر شہری تک معیاری تعلیم کی رسائی،بنیادی حقوق کا حصول آسان ہو، دولت کی منصفانہ تقسیم ہو، غربت کا خاتمہ ہو اور ملک میں خوشحالی رہے، اس سلسلہ میں ایس آئی او مختلف سرگرمیاں انجام دیتی ہیں بالخصوص تعلیمی میدان میں ترقی، بیداری اور معیار کے سلسلہ میں ہمیشہ سرگرم رہتی ہے۔ اسی کے پیشِ نظر ایس آئی او نے ایک اہم پروگرام منعقد کیا۔

اس پروگرام میں ڈاکٹر عامر اللہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اربن علاقوں میں مسلمانوں میں تعلیم کی شرح میں کمی آئی ہے۔موصوف نے مزید کہا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ڈراپ آؤٹ کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ تعداد کے بجائے معیار پر توجہ دیں۔ڈاکٹر جویریہ سلیم نے ”اسٹیٹس آف ایجوکیشن ان انڈیا“ کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹکنالوجی میں روز بہ روز تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، مستقبل میں کس فیلڈ میں کیا جاب ملے گی اس سلسلہ میں اندازہ لگانا مشکل ہے، اسمارٹ فون تک رسائی میں 61.9% اضافہ ہو اہے۔ حکومت کی جانب سے شائع ہونے والی تعلیمی رپورٹس محض تعریف پر مبنی ہوتی ہے۔ہمارا تعلیمی معیار کیا ہے؟،اسکیمات سے کس کس کو فائدہ پہنچا اور مستقبال کے لئے کیا لائحہ عمل ہے اس پر گفتگو نہیں ہوتی۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے میدان میں بہت مسائل ہیں، یہ مسائل کسی ایک کے کام کرنے سے حل نہیں ہوں گے، اس کے لئے متحدہ طور پر آگے آتے ہوئے حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسردھرمیہ، ریٹائرڈ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ حکومت مواقعوں کو محدود کررہی ہے اور نیشن انٹرسٹ کے مخالف جارہی ہے۔ امتحان کے بغیر کامیابی کو حکومت فروغ دے رہی ہے، اس کے ذریعہ سے طلبہ کی صلاحیتوں میں مزید کمی آئے گی۔ حکومت اسکولز، اسٹاف اور انفراسٹرچر کو کم کررہی ہے ایسے میں تعلیمی معیار کیسے بڑھے گا؟اساتذہ کی مسلسل تربیت کا نظام ہونا ضروری ہے، فی القوت بغیر ٹریننگ کے ہی اساتذہ کی بھرتی ہورہی ہے۔ سیکھنے کی آزادی نہیں ہے، یاد کرنے پر زیادہ فوکس کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کمار(بامسیف) نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم کا مطلب employment ہے، ہر میدان میں لوگ محض دولت کے حصول کے لئے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس موقع پر بعض اہم شخصیات بشمول ڈاکٹر سمیول، ڈاکٹر صلاح الدین(پروفیسر مولانا آزاد یونیورسٹی)، محترمہ شہانہ نشاۃ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین (ریاستی صدر، ایس آئی او، حلقہ تلنگانہ) نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ دستورِ ہند نے ملک کو ایک فلاحی ریاست کے طور پر متعارف کرتا ہے، اور ایک فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ملک کی تعلیمی صورتحال کو ٹھیک کرنا ہے، لیکن مختلف اعداد و شمار اور رپورٹس ملک کی تعلیمی نظام کی افسوسناک صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں،لہٰذا ملک کے ذمہ دار شہریوں کو تعلیم کے معیار اور ہر شہری تک آسان رسائی کے سلسلہ میں گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیم کے صحیح فلسفہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کے بغیر تعلیم نہ صرف محض نوکری اور پیسوں تک محدود ہوجائے گی بلکہ یہ تعلیم یافتہ جاہل پیدا کرتا ہے۔ جو کہ سماج کے لئے نقصاندہ ہے۔ اس کے لئے سیاسی و سماجی جدوجہد کی ضرورت ہے اسی کے ذریعہ سے تبدیلی ممکن ہے۔

Media Department
SIO Telangana

0 Comments

Urdu

Subscribe To Our Newsletter

Join our mailing list to receive the latest news and updates from our team.

You have Successfully Subscribed!